اُڈپی، 18/ اگست (ایس او نیوز) برہماگری سرکل پر لگائے گئے ساورکر کی تصویر والے بینر پر کانگریس کی طرف سے اعتراض جتانے سے ناراض بی جے پی یووا مورچہ کے کارکنان نے ضلع کانگریس پارٹی دفتر کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا۔
کل بی جے پی یووا مورچہ کارکنان نے برہماگری سرکل پر صاف صفائی کی اور ساورکر کی تصویر والے بینر پر پھولوں کے ہار چڑھائے ۔ اور پھر وہاں سے نکل کر نعرے بازی کرتے ہوئے قریب میں واقع کانگریس دفتر پر دھاوا بولنے کی کوشش کی ۔ لیکن کانگریس دفتر کے احاطے میں داخل ہوتے ہی سٹی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر پرمود کمار کی قیادت میں پولیس ٹیم نے ان کا راستہ روکتے ہوئے محاصرہ کرنے کے لئے آگے بڑھنے نہیں دیا اور وہاں سے منتشر ہونے پر مجبور کیا ۔ اس موقع پر پولیس اور احتجاجیوں کے بیچ تکرار بھی ہوئی ۔
اسی دوران ساورکر کے بینر پر پھولوں کی مالائیں چڑھانے کے ساتھ بی جے پی یووا مورچہ کارکنان نے جو زعفرانی جھنڈے لہرائے تھے ، پولیس نے کٹ آوٹ پر سے ان جھنڈوں کو ہٹانے کی ہدایت دی اور تھوڑی دیر بعد اسے ہٹا دیا گیا ۔
بی جے پی بیک ورڈ کلاس مورچہ کے نیشنل جنرل سیکریٹری یشپال سوورنا نے بھی تصویر پر مالا چڑھائی اور کہا کہ 75 ویں جشن آزادی کے موقع پر پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کی طرف سے بد امنی پھیلانے ، فرقہ وارانہ فساد مچانے ، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ اب تو ساورکر اور نیتاجی کی تصویر لگائی گئی ہے ۔ آنے والے دنوں میں ہم یہاں ساورکر کی مورتی نصب کرکے منھ توڑ جواب دیں گے ۔
ایس ڈی پی آئی کا موقف: اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی، اُڈپی کے نائب صدر شاہد علی نے اخبارنویسوں کو اپنا موقف واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پارٹی ساورکر کے فلیگس یا کٹ آوٹ کی مخالفت نہیں کررہی ہے، لیکن اُس پر" ہندو راشٹرا" جو لکھا گیا ہے، اُس کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کو ساورکر کا فوٹو والا یا کسی مجاہد آزادی کا فوٹو والا فلیکس لگانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن فلیکس پر فوٹو کے ساتھ جابرانہ اور رجعت پسند عنوانات کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سڑکوں پر لڑائی نہیں کریں گے، لیکن حکومت سے اپیل کریں گے اور سول سوسائٹی کو قائل کریں گے کہ وہ ان مسائل سے خوفزدہ نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایسے ڈرانے والے تاثرات کا جواب نہیں دیں گے، البتہ سول سوسائٹی سے اپیل کریں گے کہ ہمیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیں۔